ArticleRelease.health

Public Health

سیڈیمنٹیشن ریٹ بلڈ ٹیسٹ: نتیجہ، تیاری اور اگلے اقدامات

سیڈیمنٹیشن ریٹ بلڈ ٹیسٹ کیا ہے؟ سیڈیمنٹیشن ریٹ بلڈ ٹیسٹ، جسے ESR یا اریتھروسائٹ سیڈیمنٹیشن ریٹ بھی کہتے ہیں، خون کے سرخ خلیوں کے ایک گھنٹے میں ٹیسٹ ٹیوب…

By Dr. Amina Rahman, PharmD9 min read

Reviewed by Medical Review Team ·

سیڈیمنٹیشن ریٹ بلڈ ٹیسٹ کیا ہے؟

سیڈیمنٹیشن ریٹ بلڈ ٹیسٹ، جسے ESR یا اریتھروسائٹ سیڈیمنٹیشن ریٹ بھی کہتے ہیں، خون کے سرخ خلیوں کے ایک گھنٹے میں ٹیسٹ ٹیوب کے نیچے بیٹھنے کی رفتار ناپتا ہے۔ یہ جسم میں سوزش کی موجودگی کا بالواسطہ اشارہ دے سکتا ہے، مگر کسی ایک بیماری کی تشخیص نہیں کرتا۔ بلند یا کم نتیجے کی وجہ علامات، طبی معائنے اور دوسرے ٹیسٹوں کے ساتھ سمجھنی ہوتی ہے۔ عموماً اس ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے اور خاص تیاری درکار نہیں ہوتی؛ اپنی لیبارٹری یا ڈاکٹر کی ہدایات ضرور دیکھیں۔

یہ ٹیسٹ کیوں تجویز کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر ESR اس وقت تجویز کر سکتے ہیں جب مسلسل بخار، غیر واضح وزن میں کمی، جوڑوں یا پٹھوں کا درد، اکڑن، سر درد، یا جسم میں سوزش کے دوسرے آثار ہوں۔ اس سے انہیں یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ مزید جانچ یا علاج کی نگرانی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ یہ ٹیسٹ بعض سوزشی بیماریوں، انفیکشن یا دوسری طبی کیفیتوں کی جانچ میں معاون ہوتا ہے، لیکن نتیجے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سوزش کہاں ہے یا اس کی وجہ کیا ہے۔

ESR کبھی کسی بیماری کے پہلے سے قائم شدہ تشخیص میں وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مختلف تاریخوں کے نتائج کا موازنہ کر سکتے ہیں، مگر صرف ایک عدد کی بنیاد پر علاج شروع، تبدیل یا بند نہیں کیا جاتا۔ بعض اوقات اسی مقصد کے لیے یا ساتھ میں CRP، یعنی سی ری ایکٹو پروٹین، یا دیگر خون کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔ کون سا ٹیسٹ مناسب ہے، اس کا فیصلہ علامات اور طبی تاریخ کے مطابق ہوتا ہے۔

ٹیسٹ سے پہلے کیا تیاری کریں؟

عام طور پر ESR کے لیے فاقہ یا کھانے پینے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم اگر اسی خون کے نمونے کے ساتھ دوسرے ٹیسٹ بھی ہیں تو ان کے لیے فاقہ درکار ہو سکتا ہے۔ لیبارٹری سے پہلے پوچھ لیں کہ آیا آپ کو کچھ گھنٹے کھانے سے پرہیز کرنا ہے یا نہیں۔ معمول کی دوائیں خود سے بند نہ کریں۔ ڈاکٹر اور خون لینے والے عملے کو اپنی تمام دواؤں، وٹامنز، جڑی بوٹیوں اور سپلیمنٹس کے بارے میں بتائیں۔ اگر کوئی دوا نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی ہو تو اس کی اہمیت ڈاکٹر طے کریں گے؛ خود سے خوراک چھوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اپنی سابقہ رپورٹس ساتھ لے جانا مفید ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ESR پہلے بھی ہوا ہو۔ ڈاکٹر کو بتائیں کہ علامات کب شروع ہوئیں، مسلسل ہیں یا وقفے وقفے سے، اور ان میں بہتری یا خرابی ہوئی ہے یا نہیں۔ حالیہ انفیکشن، آپریشن، چوٹ، حمل، ماہواری، یا پہلے سے موجود بیماریوں کا ذکر بھی کریں، کیونکہ یہ معلومات نتیجے کی تشریح میں مدد دے سکتی ہیں۔ ٹیسٹ سے پہلے کوئی خاص غذا یا گھریلو نسخہ نتیجہ درست کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔

خون کا نمونہ کیسے لیا جاتا ہے؟

تربیت یافتہ عملہ عموماً بازو کی رگ سے خون لیتا ہے۔ پہلے جلد صاف کی جاتی ہے، پھر سوئی سے خون ایک ٹیوب میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹیوب کو مخصوص طریقے سے رکھا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ایک مقررہ مدت میں سرخ خلیے کتنی دور نیچے بیٹھتے ہیں۔ عام طور پر عمل چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ سوئی لگنے پر مختصر چبھن، ہلکا درد یا معمولی نیلا نشان ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو خون یا سوئی سے بے ہوشی، خون بہنے کی بیماری، یا سوئی سے متعلق شدید گھبراہٹ کا تجربہ ہوتا ہے تو عملے کو پہلے بتائیں۔

نمونہ لینے کے بعد روئی یا پٹی کو چند منٹ دبائے رکھیں۔ اگر خون نہ رکے، جگہ بہت زیادہ سوجے یا درد بڑھتا جائے تو طبی مشورہ لیں۔ بیشتر افراد فوراً اپنی معمول کی سرگرمیوں پر واپس جا سکتے ہیں، الا یہ کہ ڈاکٹر نے کسی اور وجہ سے ہدایت دی ہو۔ ESR کے لیے الگ سے کسی دوا یا سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ESR کے نتیجے کا مطلب کیا ہے؟

نتیجہ عموماً ملی میٹر فی گھنٹہ (mm/hr) میں لکھا ہوتا ہے۔ لیبارٹری رپورٹ میں اسی لیبارٹری کی حوالہ جاتی حد درج ہوتی ہے؛ عمر، جنس، طریقۂ ٹیسٹ اور لیبارٹری کے مطابق حد بدل سکتی ہے۔ اس لیے انٹرنیٹ پر ملنے والی ایک عمومی حد کو اپنی رپورٹ پر لاگو نہ کریں۔ رپورٹ میں نتیجہ حد سے باہر ہو تب بھی اس کا مطلب لازماً خطرناک بیماری نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر آپ کے نتیجے کو علامات، معائنے، طبی تاریخ اور دیگر ٹیسٹوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

بلند ESR سوزش یا انفیکشن کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کی کئی دوسری وجوہ بھی ہو سکتی ہیں۔ خون کی کمی، حمل، عمر بڑھنا، گردوں کی بعض بیماریاں اور کچھ دوسری کیفیتیں نتیجے پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اسی طرح بعض دوائیں یا حالیہ بیماری بھی تشریح کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ یہ مثالیں ممکنہ اثرات ہیں، کسی خاص شخص میں وجہ ثابت نہیں کرتیں۔ اگر ESR بلند ہو تو یہ اکیلا نتیجہ یہ نہیں بتاتا کہ انفیکشن بیکٹیریا کا ہے، اینٹی بایوٹک درکار ہے، یا کسی خاص سوزشی بیماری کی تشخیص ہو گئی ہے۔

کم ESR عموماً اپنی جگہ کوئی تشخیص نہیں ہوتا۔ بعض خون کی کیفیتیں یا سرخ خلیوں کی شکل میں تبدیلی نتیجے کو متاثر کر سکتی ہے۔ کم یا معمول کے نتیجے کے باوجود کسی بیماری کا ہونا مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اگر علامات برقرار رہیں تو رپورٹ کے عدد سے قطع نظر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ESR کی حدود اور غلط فہمیاں

ESR ایک غیر مخصوص ٹیسٹ ہے: کئی مختلف حالات میں نتیجہ بدل سکتا ہے، اور بعض بیماریوں میں نتیجہ معمول کی حد میں بھی رہ سکتا ہے۔ یہ سوزش کے شروع ہوتے ہی فوراً بلند نہیں ہوتا، اور بہتری آنے کے بعد بھی کچھ وقت تک بلند رہ سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ علامات کو سمجھنے میں یہ ہمیشہ اکیلا یا سب سے تیز اشارہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق CRP یا دوسرے ٹیسٹوں سے معلومات کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے نتیجے کو تنہا دیکھ کر خود تشخیص نہ کریں۔ بلند ESR دیکھ کر خود سے اینٹی بایوٹک، سٹیرائڈ یا درد کم کرنے والی دوا شروع نہ کریں؛ ہر دوا کے فائدے، خطرے اور ممکنہ تعاملات ہوتے ہیں۔ اسی طرح معمول کا ESR دیکھ کر اہم علامات کو نظرانداز نہ کریں۔ مختلف لیبارٹریوں کے طریقے اور حوالہ جاتی حدیں مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے مختلف اداروں کی رپورٹس کا براہ راست موازنہ ڈاکٹر کی رہنمائی کے بغیر مناسب نہیں۔ اگر ڈاکٹر نے دوبارہ ٹیسٹ کہا ہے تو پوچھیں کہ کب، کس وجہ سے، اور نتیجہ علاج کے فیصلے کو کیسے متاثر کرے گا۔

کن لوگوں میں خاص باتیں اہم ہیں؟

بڑھتی عمر میں ESR کی تشریح عمر اور باقی طبی معلومات کے ساتھ کی جاتی ہے۔ حمل، خون کی کمی، گردے کی بیماری اور جاری یا حالیہ انفیکشن نتیجے کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ڈاکٹر کو ان کے بارے میں بتانا اہم ہے۔ بچوں میں علامات، عمر اور بچوں کے لیے لیبارٹری کی حوالہ جاتی حدیں مدنظر رکھی جاتی ہیں؛ بالغوں کی حدود خود سے لاگو نہ کریں۔ اگر آپ کو پہلے سے کوئی تشخیص شدہ بیماری ہے تو اپنے معالج کو بتائیں کہ آیا اس ٹیسٹ کو کسی خاص مقصد کے لیے دہرایا جا رہا ہے۔

نتیجے کے بعد کیا کریں؟

اپنی مکمل رپورٹ ڈاکٹر یا مستند طبی کارکن کو دکھائیں، صرف بلند یا کم عدد نہ بتائیں۔ پوچھیں کہ نتیجہ آپ کی علامات اور دوسرے ٹیسٹوں کے ساتھ کیا معنی رکھتا ہے، کیا مزید جانچ کی ضرورت ہے، اور کیا دوبارہ ESR کرنا مناسب ہوگا۔ اگر آپ کو رپورٹ کی اصطلاحات سمجھ نہیں آ رہیں تو لیبارٹری سے حوالہ جاتی حد اور اکائی واضح کروائیں، مگر تشخیص لیبارٹری کے عملے سے نہ لیں۔ فارماسسٹ دواؤں کے استعمال اور ممکنہ تعاملات کے بارے میں رہنمائی دے سکتا ہے، لیکن ESR کی وجہ جاننے یا تشخیص کے لیے ڈاکٹر کی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔

اگر ڈاکٹر نے سوزش یا انفیکشن کے علاج کے دوران ٹیسٹ دہرایا ہے تو دوا بالکل تجویز کردہ طریقے سے لیں۔ علامات بہتر ہونے پر بھی دوا خود سے بند نہ کریں، اور صرف ESR کی بنیاد پر دوا کی خوراک تبدیل نہ کریں۔ اگر دوا سے الرجی، سانس میں دقت، چہرے یا گلے کی سوجن، شدید اسہال، یا کوئی سنگین ردعمل ہو تو فوری طبی مدد لیں۔ اپنی دواؤں کے پیکٹ یا لیبل کے اجزا دیکھیں، خاص طور پر اگر آپ بغیر نسخے کی دوا، جڑی بوٹی یا سپلیمنٹ بھی لے رہے ہیں؛ شک ہو تو فارماسسٹ یا ڈاکٹر سے پوچھیں۔

کب فوری طبی مدد لینی چاہیے؟

ESR کی رپورٹ خود عام طور پر ہنگامی حالت نہیں بتاتی، لیکن کچھ علامات فوری توجہ چاہتی ہیں۔ سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں درد، بے ہوشی یا الجھن، شدید کمزوری، تیزی سے بگڑتی حالت، یا مسلسل تیز بخار کے ساتھ شدید بیمار محسوس ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔ اگر نیا شدید سر درد ہو، نظر دھندلی یا کم ہو، یا سر درد کے ساتھ جبڑا چباتے وقت درد ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد میں۔ یہ علامات کسی خاص بیماری کی تصدیق نہیں کرتیں، مگر تاخیر مناسب نہیں۔

عام سوالات

کیا ESR کے لیے فاقہ ضروری ہے؟

صرف ESR کے لیے عموماً فاقہ ضروری نہیں ہوتا۔ اگر ساتھ دوسرے ٹیسٹ بھی ہوں تو ان کی تیاری الگ ہو سکتی ہے؛ اپنی لیبارٹری یا ڈاکٹر سے تصدیق کریں۔

کیا بلند ESR کا مطلب انفیکشن ہے؟

ضروری نہیں۔ انفیکشن ایک ممکنہ وجہ ہے، مگر سوزش، بعض دائمی کیفیتیں اور دوسری وجوہ بھی نتیجے کو بدل سکتی ہیں۔ تشخیص کے لیے علامات اور مزید معلومات درکار ہو سکتی ہیں۔

کیا معمول کا ESR بیماری کو خارج کرتا ہے؟

نہیں۔ ESR کی حدود ہیں اور کچھ بیماریوں میں یہ معمول کی حد میں رہ سکتا ہے۔ علامات موجود ہوں یا بڑھ رہی ہوں تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

نتیجہ کب ملتا ہے؟

رپورٹ کا وقت لیبارٹری اور اس کے طریقۂ کار کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ نمونہ دیتے وقت متوقع وقت پوچھیں، اور رپورٹ ملنے پر اسے ڈاکٹر سے سمجھیں۔

کیا ٹیسٹ دوبارہ کروایا جا سکتا ہے؟

ہاں، ڈاکٹر ضرورت کے مطابق وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھنے کے لیے اسے دہرا سکتے ہیں۔ دوبارہ ٹیسٹ کا وقفہ اور مقصد آپ کی حالت کے مطابق طے ہوتا ہے؛ خود سے بار بار ٹیسٹ کروانا عموماً تشخیص کا متبادل نہیں۔

طبی دستبرداری

یہ مضمون عمومی تعلیمی معلومات کے لیے ہے، ذاتی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ ESR کے نتیجے کی تشریح آپ کی علامات، طبی تاریخ، معائنے اور متعلقہ ٹیسٹوں کے ساتھ مستند ڈاکٹر کرے۔ اپنی دوا شروع، بند یا تبدیل کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔ شدید یا ہنگامی علامات میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔

اہم طبی انتباہ

یہ مضمون صرف عمومی تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور کسی مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ کی پیشہ ورانہ مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی دوا کے استعمال، خوراک، یا علاج سے پہلے اپنے ڈاکٹر/فارماسسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔

Keep reading

Related articles

Public Health

betnelan tablet uses in urdu

بیٹنیلان ٹیبلٹ کس لیے استعمال ہوتی ہے؟ اگر آپ کے ڈاکٹر نے آپ کو Betnelan Tablet لینے کا کہا ہے اور آپ سوچ رہے ہیں کہ آخر یہ دوا ہے کیا، تو سب سے پہلے یہ سمجھ لیں — یہ کوئی عام درد یا بخار کی گولی نہیں۔ یہ ایک

Dr. Khalid Mehmood, MD12 min

Public Health

Tegral tablet uses in urdu

Tegral Tablet Uses in Urdu — مکمل معلومات، استعمال، خوراک اور احتیاط جب کسی شخص کو ڈاکٹر Tegral Tablet استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوال آتا ہے کہ آخر یہ دوا کس بیماری کے لیے ہے اور اسے

Dr. Khalid Mehmood, MD10 min

Public Health

loprin tablet uses in urdu

لوپرین ٹیبلٹ (Loprin) — مکمل اور آسان معلومات اردو میں تعارف اگر آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک یا فالج سے بچاؤ کے لیے لوپرین ٹیبلٹ تجویز کی گئی ہے، تو ذہن میں بہت سے سوالات آنا فطری بات ہے۔ یہ دوا

Dr. Amina Rahman, PharmD14 min

Public Health

spiromide tablet uses in urdu

اسپائرومائیڈ ٹیبلٹ — سوجن اور پانی کی زیادتی کے بارے میں مکمل رہنمائی اگر آپ کے پیروں، ٹخنوں یا پیٹ میں غیر معمولی سوجن رہتی ہے، یا دل، جگر یا گردوں کی کسی تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹر نے آپ کو اسپائرومائیڈ ٹیبلٹ لکھ کر دی ہے،

Dr. Amina Rahman, PharmD14 min

Public Health

Nexum tablet uses in urdu

نیکسم — معدے کی تیزابیت اور جلن کے بارے میں مکمل رہنمائی سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں، یا صبح اٹھتے ہی معدے میں تیزابیت کا احساس — یہ شکایات ہمارے ہاں اتنی عام ہیں کہ بیشتر گھروں میں کسی نہ کسی وقت نیکسم کا نام سننے کو

Dr. Khalid Mehmood, MD14 min