ArticleRelease.health

Syrup

برٹانائل شربت: سانس کی تنگی میں استعمال اور احتیاط

برٹانائل شربت ہر کھانسی کی دوا نہیں۔ جانیں کب تجویز ہوتا ہے، بوتل کی طاقت کیسے پڑھیں، بچوں کی خوراک میں کیا احتیاط کریں اور کب فوری مدد لیں۔

By Dr. Amina Rahman, PharmD12 min read

Reviewed by Medical Review Team ·

برٹانائل شربت (Britanyl syrup) عموماً ٹربیوٹالین پر مشتمل سانس کی نالیاں کھولنے والی دوا ہے، جو نالیوں کی تنگی سے ہونے والی سیٹی اور سانس کی مشکل میں تجویز ہوسکتی ہے۔ عام نزلے کی ہر کھانسی میں فائدہ نہیں دیتی، اور شدید دمے کے حملے میں اسے پی کر آرام کا انتظار کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

بوتل پر فعال جز ضرور پڑھیں۔ ملتے جلتے نام یا مختلف ملک کی مصنوعات میں ترکیب بدل سکتی ہے؛ اس رہنمائی کا تعلق ٹربیوٹالین والے شربت سے ہے۔ مضمون کسی برانڈ کی تشہیر نہیں کرتا، نہ کسی کمپنی کو بہترین قرار دیتا ہے؛ مناسب جینرک متبادل فارماسسٹ سے پوچھیں۔

فوری معلومات

معلومات تفصیل
عمومی نام ٹربیوٹالین سلفیٹ؛ اصل لیبل سے تصدیق کریں
برانڈ نام اور متبادل برٹانائل؛ متبادل کے لیے یہی فعال جز اور موزوں طاقت دیکھیں
دوائی کی قسم بیٹا دو محرک، سانس کی نالیاں کھولنے والی دوا
بنیادی استعمال نالیوں کی تنگی کے ساتھ سیٹی اور سانس کی مشکل
دستیاب شکل زیر بحث دوا منہ سے پینے والا شربت ہے
عام طاقت ٹربیوٹالین شربت کی معروف طاقت 1.5 mg فی 5 ml؛ اپنی بوتل لازماً دیکھیں
استعمال کا راستہ منہ کے ذریعے
نسخے کی حیثیت ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں؛ مقامی قانونی حیثیت فارماسسٹ سے پوچھیں
عام ضمنی اثرات ہاتھ کانپنا، دل تیز دھڑکنا، سر درد، بے چینی

تعارف: برٹانائل کس مقصد کی دوا ہے؟

فعال جز ٹربیوٹالین (Terbutaline) سانس کی نالیوں کے گرد پٹھوں کو ڈھیلا کرتا ہے۔ اسے محض میٹھا کھانسی کا شربت سمجھنا غلط ہوگا؛ کھانسی کے پیچھے نالیوں کی تنگی ہو تو فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن گلے کی خراش یا ناک سے رطوبت گرنے کی وجہ الگ ہوتی ہے۔

وجہ پہچاننا ضروری ہے۔ دمے کی جدید رہنمائی میں منہ سے لی جانے والی اس قسم کی دوائیں عموماً ترجیح نہیں ہوتیں، کیونکہ سانس کے ذریعے دی جانے والی مناسب دوا زیادہ ہدفی اثر دیتی ہے۔ شربت دمے کی اندرونی سوزش کا متبادل علاج بھی نہیں۔

دوا کیسے کام کرتی ہے؟

سانس کی نالی کو ایک باریک راستہ سمجھیں۔ اس کے گرد پٹھے سکڑ جائیں تو ہوا کا گزر مشکل ہوتا ہے؛ ٹربیوٹالین مخصوص پیغام وصول کرنے والے حصوں کو متحرک کرکے ان پٹھوں کو ڈھیلا کرتی ہے۔

شربت پہلے معدے سے جذب ہوتا ہے، اس لیے سانس کے ذریعے دی جانے والی فوری آرام کی دوا جیسی تیزی توقع نہ کریں۔ اثر شروع ہونے کا وقت تیاری اور مریض کے لحاظ سے بدل سکتا ہے۔ چند منٹ میں فرق نہ پڑنے پر مزید چمچ لینا درست نہیں؛ اس سے دھڑکن بڑھ سکتی ہے جبکہ سانس کی اصل مشکل برقرار رہے۔

کن علامات میں استعمال ہوسکتا ہے؟

دمے کے ساتھ سانس کی نالیوں کی تنگی

ڈاکٹر بعض حالات میں سیٹی، سینے کی جکڑن اور نالیوں کی تنگی کے لیے تجویز کرسکتا ہے۔ تاہم دمے کا علاج صرف وقتی طور پر راستہ کھولنا نہیں؛ سوزش قابو کرنے والی دوا اور حملے کے وقت کا تحریری منصوبہ بھی اہم ہیں۔

دوسری بیماریوں میں محدود کردار

بعض دائمی سانس کی بیماریوں میں، جہاں نالیاں سکڑ رہی ہوں، ڈاکٹر اس جز پر غور کرسکتا ہے۔ ہر سینے کی بیماری میں فائدہ متوقع نہیں۔ نمونیا، دل کی خرابی یا سانس کی نالی میں پھنسی چیز سے پیدا ہونے والی مشکل کا علاج الگ ہوگا۔

صرف کھانسی کافی وجہ نہیں۔ بخار، خون والا بلغم، وزن گھٹنے یا رات کو بار بار سانس ٹوٹنے کی صورت میں نیا شربت لینے کے بجائے معائنہ کرائیں۔

خوراک اور استعمال کا درست طریقہ

درست خوراک عمر، وزن، بیماری، دوا کی شکل، طاقت اور طبی تاریخ کے مطابق بدلتی ہے؛ ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مقدار اور دن میں لینے کی تعداد کی تصدیق ضروری ہے۔ بالغ کی لکھی ہوئی مقدار بچے کو آدھی کرکے نہ دیں، اور پرانی بوتل کی ہدایت نئی بوتل پر خودکار طور پر لاگو نہ کریں۔

ناپنے والی سرنج بہتر رہتی ہے۔ گھر کے چائے یا کھانے کے چمچ مختلف ہوتے ہیں، جبکہ دوائی کی سرنج مطلوبہ مقدار نسبتاً درست ناپنے میں مدد دیتی ہے۔ خوراک لکھواتے وقت صرف «ایک چمچ» کے بجائے واضح مقدار لکھوائیں۔

بوتل اور نسخہ ساتھ رکھ کر تین باتیں ملائیں:

  • فعال جز واقعی ٹربیوٹالین ہو، کوئی مشترکہ کھانسی کی دوا نہ ہو۔
  • طاقت کس مقدار کے مقابل لکھی ہے، مثلاً فی 5 ml، اسے دیکھیں۔
  • مریض کو دینی والی مقدار ml میں واضح ہو؛ mg اور ml کو ایک نہ سمجھیں۔

یہ فرق معمولی نہیں۔ ایک ہی جز والی دو بوتلوں کی طاقت مختلف ہو تو برابر حجم میں برابر دوا نہیں ملتی؛ ایسی تبدیلی پر فارماسسٹ سے مقدار دوبارہ لکھوائیں۔

عموماً کھانے کے ساتھ یا بغیر لیا جاسکتا ہے؛ متلی ہو تو کھانے کے بعد لینا مدد دے سکتا ہے، بشرطیکہ اپنے لیبل پر مختلف ہدایت نہ ہو۔ بوتل ہلانے کی ضرورت لیبل کے مطابق دیکھیں۔ شربت پوری دودھ کی بوتل میں نہ ملائیں، کیونکہ بچہ پوری بوتل نہ پیے تو لی گئی مقدار نامعلوم رہتی ہے۔

ضمنی اثرات: کس پر نظر رکھیں؟

ہاتھ کانپنا، سر درد، متلی، بے چینی، پٹھوں میں کھنچاؤ یا دل کی دھڑکن محسوس ہونا ممکن ہے۔ معمولی اثر بھی مسلسل رہے، نیند خراب کرے یا ہر خوراک کے بعد بڑھے تو ڈاکٹر سے علاج کا جائزہ کرائیں؛ اسے برداشت کرنا لازم نہیں۔

شدید علامات الگ معاملہ ہیں۔ سینے میں درد، بے ہوشی، بہت تیز یا بے ترتیب دھڑکن، چہرے یا زبان کی سوجن اور بڑھتی ہوئی سانس کی مشکل میں مزید خوراک نہ لیں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔

ٹربیوٹالین کبھی خون میں پوٹاشیم کم اور شکر زیادہ کرسکتی ہے۔ غیرمعمولی کمزوری یا دھڑکن کی خرابی، خصوصاً دوسری متعلقہ ادویات کے ساتھ، جانچ مانگتی ہے؛ گھر پر خود سے پوٹاشیم شروع نہ کریں۔

سانس اتنا مشکل ہو کہ پورا جملہ نہ بول سکیں، ہونٹ نیلے پڑیں یا غنودگی آئے تو فوراً ہسپتال جائیں۔ شربت کے اثر کا انتظار نہ کریں۔

انتباہات اور خاص احتیاطیں

دل کی بیماری، پہلے سے بے ترتیب دھڑکن، بلند فشار خون، ذیابیطس یا تھائرائڈ کی زیادتی ہو تو دوا دینے والے کو پہلے بتائیں۔ گردوں کی خرابی میں دوا جسم سے نکلنے کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے؛ جگر کی بیماری بھی طبی تاریخ میں ضرور درج کرائیں۔

بزرگوں میں اضافی احتیاط رکھیں۔ دل کی بیماری اور کئی دواؤں کا اکٹھا استعمال ضمنی اثرات پہچاننا مشکل بنا سکتا ہے، اس لیے نئی دھڑکن یا کمزوری کو صرف عمر کا نتیجہ نہ سمجھیں۔

حمل میں خود سے آغاز نہ کریں۔ بے قابو دمہ بھی ماں اور بچے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس لیے ضروری علاج چھوڑنے کے بجائے ڈاکٹر سے مناسب دوا منتخب کرائیں۔ اسے رحم کے سکڑاؤ روکنے کے لیے خود استعمال کرنا خطرناک ہے۔

دودھ پلانے کے دوران بھی انتخاب انفرادی ہوگا۔ شیرخوار، کم عمر بچے یا پہلی بار سیٹی والے بچے کو معائنے کے بغیر شربت نہ دیں؛ اس عمر میں سانس کی ہر آواز دمہ نہیں ہوتی۔

دوسری دواؤں کے ساتھ تعامل

اپنی تمام دواؤں کی فہرست دکھائیں۔ خاص طور پر دمے کی دوسری نالیاں کھولنے والی دوائیں، بعض ناک کھولنے والی دوائیں اور محرک اجزا والے کھانسی کے شربت دھڑکن اور کپکپی بڑھا سکتے ہیں۔

  • پروپرانولول جیسے بعض دل یا فشار خون کے علاج اس دوا کے اثر میں رکاوٹ اور سانس کی تنگی پیدا کرسکتے ہیں۔
  • پیشاب آور دوائیں، تھیوفیلین اور بعض سٹیرائڈ ادویات کے ساتھ پوٹاشیم کم ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
  • بعض افسردگی کی دوائیں دل اور فشار خون پر اثر بڑھا سکتی ہیں؛ حال ہی میں بند کی گئی دوا بھی بتائیں۔

خود سے کوئی ضروری دوا بند نہ کریں۔ زیادہ چائے، کافی یا کیفین والے مشروبات بے چینی بڑھا سکتے ہیں۔ وٹامن، جڑی بوٹیوں کی تیاری اور وزن گھٹانے والی مصنوعات بھی فہرست میں شامل کریں۔

کن لوگوں کو نہیں لینی چاہیے؟

ٹربیوٹالین یا بوتل کے کسی دوسرے جز سے پہلے شدید الرجی ہوئی ہو تو دوبارہ استعمال نہ کریں۔ اگر اصل جز پڑھا نہیں جارہا، مہر مشکوک ہے یا دوا کسی اور مریض کے نام پر دی گئی تھی تو تصدیق سے پہلے نہ لیں۔

دل کی بیماری ہر صورت قطعی ممانعت نہیں، مگر خود علاج مناسب نہیں۔ شدید دھڑکن، بے قابو بیماری یا متعدد متعلقہ دواؤں کی موجودگی میں ڈاکٹر خطرہ دیکھ کر فیصلہ کرے گا۔

زیادہ خوراک ہو جائے تو کیا کریں؟

غلطی سے زیادہ شربت پینے پر کپکپی، شدید گھبراہٹ، تیز دھڑکن، قے، کمزوری یا فشار خون میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ بچے کے بوتل سے خود پی لینے پر علامات کا انتظار نہ کریں؛ فوری طبی رہنمائی لیں یا قریب ترین ہنگامی شعبے جائیں۔

قے مت کروائیں۔ بوتل، اندازاً پی گئی مقدار، وقت اور مریض کی عمر یا وزن کی معلومات ساتھ رکھیں۔ بے ہوش یا بہت غنودہ شخص کے منہ میں پانی یا دوا نہ ڈالیں۔

رہ گئی خوراک کا کیا کرنا چاہیے؟

اگر باقاعدہ اوقات پر دوا تجویز ہوئی تھی تو یاد آنے پر لیں، مگر اگلی خوراک کا وقت قریب ہو تو چھوڑی ہوئی خوراک چھوڑ دیں۔ دو خوراکیں اکٹھی نہ لیں۔

وقت واضح نہ ہو تو فارماسسٹ سے پوچھیں۔ چھوٹی ہوئی خوراک کے بعد سانس بگڑ جائے تو معاملہ صرف خوراک پورا کرنے کا نہیں؛ اپنے تجویز کردہ ہنگامی منصوبے پر عمل کریں اور ضرورت کے مطابق فوری مدد لیں۔

کتنی دیر استعمال کیا جائے؟

مدت تشخیص کے مطابق ہوگی، بوتل ختم ہونے کے مطابق نہیں۔ عارضی علامات کے لیے دیا گیا شربت بار بار خود خریدنا، یا مہینوں استعمال کرتے رہنا، اصل بیماری کے جائزے میں تاخیر کرسکتا ہے۔

علامات لوٹ رہی ہوں تو وجہ دیکھیں۔ رات کی نیند کھلنا، پہلے سے زیادہ دوا درکار ہونا یا معمول کے کام پر سانس پھولنا بتاتا ہے کہ علاج کا دوبارہ جائزہ چاہیے۔

عموماً اس جز کو نشہ آور دواؤں کی طرح بتدریج چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن بند کرنے سے سانس کی علامات واپس آسکتی ہیں۔ دمے کی دوسری تجویز کردہ دوا، خصوصاً سوزش کم کرنے والی، خود سے بند نہ کریں۔

گھر میں شربت کیسے محفوظ رکھیں؟

درجہ حرارت کی حد بوتل سے دیکھیں؛ ہر تیاری کے لیے ایک عدد فرض نہ کریں۔ دھوپ، چولہے، غسل خانے کی نمی اور گرم گاڑی سے دور رکھیں۔ پاکستان کی گرمی میں موٹر سائیکل کی ڈگی بھی مناسب جگہ نہیں۔

فریج لازمی نہیں ہوتا۔ صرف لیبل کہے تو رکھیں، اور دوا کو جمنے نہ دیں۔ ڈھکن مضبوط بند رکھیں، ناپنے کا آلہ صاف کرکے خشک کریں اور بوتل بچوں کی نظر اور پہنچ سے دور بند الماری میں رکھیں۔

میعاد، کھولنے کے بعد کی ہدایت، رنگ یا بو میں غیرمعمولی تبدیلی دیکھیں۔ غیر یقینی کیفیت میں فارماسسٹ کو دکھائیں۔

مختلف شکلیں اور طاقتیں

ٹربیوٹالین مختلف ممالک میں شربت، گولی، سانس کے ذریعے استعمال ہونے والی تیاری یا انجیکشن کی صورت میں مل سکتی ہے؛ پاکستان میں ہر شکل کی دستیابی فرض نہ کریں۔ زیر بحث شربت صرف پینے کے لیے ہے۔

نیبولائزر میں شربت ہرگز نہ ڈالیں۔ اس میں موجود میٹھے اجزا اور دوسری شامل اشیا پھیپھڑوں تک پہنچانے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ اسی طرح سانس والی دوا کی مقدار کو شربت کے چمچوں میں خود تبدیل کرنا محفوظ نہیں؛ راستہ اور جذب دونوں مختلف ہیں۔

برانڈ بدلتے وقت کیا ملائیں؟

جینرک متبادل پوچھنا مناسب ہے۔ انتخاب میں صرف نام یا کم قیمت نہیں، فعال جز، طاقت، دوا کی شکل، شامل اجزا، معتبر فراہمی اور مریض کی برداشت دیکھیں۔ موجودہ قیمت مقامی فارمیسی سے معلوم کریں؛ یہاں غیرمصدقہ قیمت درج نہیں کی جارہی۔

ایک ہی جز لکھا ہونا کافی نہیں۔ ذیابیطس میں شکر کی موجودگی، کسی رنگ سے الرجی اور مختلف ناپنے والے آلات بھی عملی فرق ڈالتے ہیں۔ نئی بوتل لیتے وقت پرانی بوتل یا واضح تصویر دکھائیں، تاکہ فارماسسٹ تصدیق کرسکے کہ خوراک کی ہدایت بدلنے کی ضرورت تو نہیں۔

عام غلط فہمیاں درست کریں

  • ہر کھانسی میں فائدہ ہوگا: نالیوں کی تنگی کے بغیر فائدہ ضروری نہیں؛ وجہ کا علاج چاہیے۔
  • زیادہ شربت سے سانس جلد کھلے گا: اضافی مقدار دھڑکن اور دوسرے نقصانات بڑھا سکتی ہے۔
  • میٹھا شربت بچوں کے لیے بے ضرر ہے: دوا کا اثر ذائقے سے نہیں، جز اور خوراک سے طے ہوتا ہے۔
  • سیٹی ختم تو دمہ ختم: وقتی آرام کے باوجود اندرونی سوزش باقی رہ سکتی ہے۔
  • کپکپی دوا کے اچھا کام کرنے کا ثبوت ہے: ضمنی اثر کو فائدے کی علامت نہ سمجھیں؛ پریشان کن ہو تو جائزہ کرائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا برٹانائل خشک کھانسی کے لیے لیا جاسکتا ہے؟

صرف خشک کھانسی کی بنیاد پر نہیں۔ اگر ساتھ سانس کی نالیوں کی تنگی ہو تو ڈاکٹر تجویز کرسکتا ہے؛ ورنہ دوسری وجہ تلاش کرنا زیادہ مفید ہوگا۔

کیا کھانے کے بعد لینا بہتر ہے؟

عموماً کھانے کے بعد لیا جاسکتا ہے اور متلی میں مدد مل سکتی ہے۔ اصل ترجیح اپنے نسخے اور بوتل کی ہدایت کو دیں؛ خود سے اوقات نہ بدلیں۔

کیا بچے کو رات میں کھانسی آئے تو اضافی خوراک دیں؟

نہیں، اضافی خوراک خود نہ دیں۔ رات کی بار بار کھانسی، سیٹی یا پسلیاں اندر کھنچنا معائنے کی وجہ ہیں؛ واضح سانس کی مشکل میں فوری مدد لیں۔

کیا اس سے نیند آتی ہے یا عادت پڑتی ہے؟

ٹربیوٹالین نیند کی دوا نہیں؛ بعض لوگوں میں الٹا بے چینی ہوسکتی ہے۔ عام طور پر نشہ آور انحصار نہیں کرتی، مگر بار بار ضرورت پڑنا بیماری کے ناقص قابو کی نشانی ہوسکتا ہے۔

کیا حمل یا دودھ پلانے میں محفوظ ہے؟

ہر مریض کے لیے ایک جواب نہیں۔ حمل کا مرحلہ، بچے کی عمر، ماں کی بیماری اور دوسرے علاج دیکھ کر ڈاکٹر فیصلہ کرے گا؛ ضروری سانس کا علاج خود بند نہ کریں۔

کیا شربت کے ساتھ سانس والی دوا بھی لے سکتے ہیں؟

اگر ڈاکٹر نے دونوں لکھی ہیں تو ہدایت سمجھ کر استعمال کریں۔ خود سے یکجا کرنے پر ملتے جلتے اجزا کی مجموعی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے دھڑکن اور کپکپی بڑھیں گی۔

دھڑکن تیز ہو تو اگلی خوراک لوں؟

ہلکی مگر بار بار ہونے والی شکایت پر اگلی خوراک سے پہلے مشورہ لیں۔ بہت تیز یا بے ترتیب دھڑکن، سینے کے درد یا بے ہوشی میں مزید خوراک نہ لیں اور فوراً طبی مدد حاصل کریں۔

کیا دوا لے کر گاڑی چلا سکتے ہیں؟

چکر، کپکپی یا بے چینی ہو تو گاڑی اور مشین نہ چلائیں۔ ابتدائی خوراکوں کے بعد اپنا ردعمل دیکھیں؛ الکحل چکر بڑھا سکتی ہے، اس لیے اس سے گریز بہتر ہے۔

حوالہ جات

  • عالمی ادارہ برائے دمہ کی حکمت عملی اور مختصر رہنمائی: دمے میں سانس کے ذریعے علاج اور منہ سے لی جانے والی نالیاں کھولنے کی دواؤں کا مقام۔
  • امریکی قومی کتب خانۂ طب کی میڈلائن پلس، ٹربیوٹالین کی مریض معلومات: احتیاطیں، تعامل اور ضمنی اثرات۔

اپنی پاکستانی بوتل کا منظورشدہ پرچہ طاقت، شامل اجزا اور ذخیرے کی بنیادی تصدیق ہے؛ دوسرے ملک کی خوراک خود لاگو نہ کریں۔

اہم طبی انتباہ

یہ مضمون صرف عمومی تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور کسی مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے پیشہ ورانہ مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی دوا کے استعمال، خوراک، یا علاج سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔

Keep reading

Related articles