ڈائجیکس ایم پی شربت کے استعمال، خوراک اور ضروری احتیاط
ڈائجیکس ایم پی تیزابیت اور گیس میں کب مدد دیتا ہے؟ اجزا کی تصدیق، دوسری دواؤں سے وقفہ، گردوں کی احتیاط اور خطرے کی علامات آسان اردو میں جانیں۔
By Dr. Khalid Mehmood, MD5 min read
Reviewed by Medical Review Team ·

ڈائجیکس ایم پی شربت (Dijex MP) معدے کی تیزابیت، کھٹی ڈکاروں، سینے کی جلن اور گیس سے ہونے والے پھولاؤ میں عارضی آرام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گردوں کی بیماری ہو تو خود سے نہ لیں، اور بوتل پر فعال اجزا ضرور ملائیں۔
یہ تعلیمی رہنمائی کسی برانڈ کی تشہیر یا کسی کمپنی کو بہترین قرار نہیں دیتی؛ مناسب جینرک متبادل فارماسسٹ سے پوچھیں۔
فوری معلومات
| معلومات | تفصیل |
|---|---|
| عمومی نام | عموماً ایلومینیم ہائیڈرو آکسائیڈ، میگنیشیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سیمتھیکون؛ لیبل سے تصدیق کریں |
| برانڈ / متبادل | ڈائجیکس ایم پی؛ متبادل کے لیے اجزا اور طاقت ملائیں |
| دوائی کی قسم | تیزاب بے اثر کرنے اور گیس کم کرنے والی دوا |
| بنیادی استعمال | جلن، کھٹی ڈکاریں، گیس |
| دستیاب شکل | منہ سے لینے والا سسپنشن |
| عام طاقتیں | فی 5 ml مقدار بوتل سے دیکھیں |
| استعمال کا راستہ | منہ کے ذریعے |
| نسخے کی حیثیت | مقامی فارمیسی سے تصدیق کریں |
| عام ضمنی اثرات | قبض یا پتلے پاخانے |
تعارف: بوتل کے اجزا پہلے پہچانیں
عام بول چال میں اسے شربت کہتے ہیں، مگر سسپنشن میں دوائی کے ذرات تہہ میں بیٹھ سکتے ہیں۔ صرف نام کافی نہیں۔ سیمتھیکون کا نام بعض لیبلوں پر میتھائل پولی سلوکسین بھی مل سکتا ہے؛ مختلف ترکیب ہو تو رہنمائی دوبارہ لیں۔
دوا کیسے کام کرتی ہے؟
تیزاب کم کرنے والے اجزا معدے میں موجود تیزاب بے اثر کرتے ہیں، جبکہ سیمتھیکون گیس کے چھوٹے بلبلے یکجا کرکے انہیں خارج ہونے میں مدد دیتا ہے۔ آرام جلد مل سکتا ہے۔ مگر بنیادی بیماری لازماً ٹھیک نہیں ہوتی۔
کن شکایات میں فائدہ ہوسکتا ہے؟
کھانے کے بعد تیزابیت، منہ میں کھٹا پانی آنے اور گیس والے پھولاؤ میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ ہر پیٹ درد گیس نہیں۔ مسلسل درد، بار بار قے یا وزن گھٹنے پر تشخیص کروائیں؛ یہ معدے کے جراثیم ختم نہیں کرتا۔
خوراک اور استعمال کا طریقہ
بوتل اچھی طرح ہلائیں۔ مقدار ناپنے کے لیے دوائی والا پیمانہ یا منہ میں دوا دینے والی سرنج استعمال کریں، گھریلو چمچ نہیں۔
اکثر ایسی دوائیں کھانے کے ساتھ یا بعد لی جاتی ہیں، مگر مقدار، روزانہ تعداد اور وقت اپنے لیبل کے مطابق رکھیں۔ درست خوراک عمر، بیماری، شکل اور طبی تاریخ پر منحصر ہے؛ ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے تصدیق ضروری ہے۔ بچوں کو بالغ کی آدھی خوراک خود سے نہ دیں۔
ضمنی اثرات اور خطرے کی علامات
ایلومینیم قبض، جبکہ میگنیشیم پتلے پاخانے کرسکتا ہے۔ تکلیف برقرار رہے تو مشورہ لیں۔ خارش کے ساتھ چہرہ سوجنے یا سانس رکنے پر دوا روکیں اور فوراً ہسپتال جائیں۔
کالا تارکول جیسا پاخانہ یا خون والی قے ہنگامی علامات ہیں۔ سینے کے درد کے ساتھ پسینہ یا سانس پھولنا بھی محض تیزابیت سمجھ کر نہ ٹالیں۔
انتباہات اور احتیاطیں
حمل، دودھ پلانے، بچوں اور بزرگوں میں پہلے مشورہ لیں، خصوصاً جب دوسری دوائیں بھی جاری ہوں یا بار بار جلن کے لیے شربت درکار ہو۔ گردوں کی خرابی ضرور بتائیں۔ جگر، دل کی بیماری یا نمک کی پابندی ہو تو مکمل لیبل دکھائیں؛ ذیابیطس میں شکر بھی دیکھیں۔
دوسری دواؤں کے ساتھ وقفہ
تیزاب کم کرنے والی دوائیں آئرن، تھائیرائڈ کی دوا اور بعض اینٹی بائیوٹک کے جذب میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔ ساتھ نہ نگلیں۔ عموماً دو سے چار گھنٹے کا وقفہ درکار ہوتا ہے، مگر درست وقفہ متعلقہ دوا کے مطابق فارماسسٹ سے طے کرائیں۔ وٹامن اور سپلیمنٹ بھی بتائیں۔
کن لوگوں کو نہیں لینی چاہیے؟
کسی جز سے سابقہ الرجی ہو تو استعمال نہ کریں۔ شدید گردوں کی خرابی میں ڈاکٹر کی واضح اجازت کے بغیر نہ لیں؛ میگنیشیم اور ایلومینیم جمع ہوسکتے ہیں۔
زیادہ خوراک ہوجائے تو
شدید دست، قے، غیر معمولی کمزوری یا غنودگی پر فوری مدد لیں۔ قے مت کروائیں۔ بچہ نامعلوم مقدار پی لے تو علامات کا انتظار کیے بغیر بوتل سمیت ہسپتال جائیں۔
خوراک رہ جائے تو
دوگنی مقدار نہ لیں۔ اگر دوا صرف ضرورت پر لینی تھی اور علامت ختم ہوگئی تو چھوٹی ہوئی خوراک پوری کرنا ضروری نہیں۔
کتنی دیر استعمال کریں؟
روزانہ ضرورت پڑنا معائنے کی وجہ ہے، خصوصاً اگر دو ہفتے تک شکایت لوٹتی رہے۔ اسے مستقل سہارا نہ بنائیں۔ عموماً بتدریج خوراک گھٹانا ضروری نہیں۔
ذخیرہ اور بوتل کی جانچ
لیبل کے مطابق رکھیں؛ دھوپ، چولہے اور گرم گاڑی سے دور، بچوں کی پہنچ سے باہر۔ ڈھکن بند رکھیں۔ میعاد دیکھیں؛ ہلانے کے باوجود سخت تہہ نہ ملے، رنگ یا بو بدلے تو فارماسسٹ کو دکھائیں۔
مختلف شکلیں اور متبادل کا انتخاب
گولی اور سسپنشن کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔ متبادل لیتے وقت فی پیمانہ اجزا، طاقت اور شکر ملائیں؛ صرف بوتل کا حجم یا قیمت نہ دیکھیں۔ ایک جیسے اجزا بھی خودکار تبدیلی کی ضمانت نہیں۔
عام غلط فہمیاں
- بھوک بڑھانے والا شربت نہیں؛ تیزابیت اور گیس کا آرام الگ بات ہے۔
- جلن دب جانا السر ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں۔
- زیادہ مقدار سے لازماً زیادہ فائدہ نہیں؛ نقصان بڑھ سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا کھانے کے بعد لے سکتے ہیں؟
اکثر ہاں، مگر اپنی بوتل کی ہدایت مقدم رکھیں۔
کیا نیند آتی ہے؟
عام طور پر نہیں؛ غنودگی ہو تو گاڑی نہ چلائیں اور وجہ معلوم کروائیں۔
کیا عادت پڑتی ہے؟
نشہ آور عادت نہیں، مگر روزانہ ضرورت کی وجہ جاننا ضروری ہے۔
کیا حمل میں لے سکتی ہوں؟
پہلے اجزا اور ضرورت ڈاکٹر سے جانچوائیں۔
کیا دودھ پلانے میں مناسب ہے؟
بہت سی ایسی دوائیں استعمال ہوسکتی ہیں؛ اپنی ترکیب کی تصدیق کروائیں۔
کیا بچے کو دے سکتے ہیں؟
عمر اور علامات بتائے بغیر خوراک طے نہ کریں۔
کیا دست ہوں تو روک دیں؟
واضح یا مسلسل دست ہوں تو روک کر مشورہ لیں۔
کیا الکحل کے ساتھ لے سکتے ہیں؟
پرہیز کریں؛ الکحل جلن بڑھا سکتی ہے۔
حوالہ جات
برطانوی قومی ادارۂ صحت: تیزاب کم کرنے والی دواؤں کی رہنمائی
اہم طبی انتباہ
یہ مضمون صرف عمومی تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور کسی مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے پیشہ ورانہ مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی دوا کے استعمال، خوراک، یا علاج سے پہلے اپنے ڈاکٹر/فارماسسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔





