ArticleRelease.health

Public Health

پیڈز کریم: استعمال، درست طریقہ اور خارش کی احتیاطیں

پیڈز کریم کا جز پہلے پہچانیں، پھر خارش کا علاج کریں۔ لگانے، دھونے، گھر والوں کی احتیاط اور علاج کے بعد باقی خارش کی عملی رہنمائی پڑھیں۔

By Dr. Khalid Mehmood, MD13 min read

پیڈز کریم: استعمال، درست طریقہ اور خارش کی احتیاطیں

پیڈز کریم (Peds cream) کا استعمال اس کے فعال جز پر منحصر ہے؛ اگر ٹیوب پر پرمیتھرین 5% درج ہو تو اسے عموماً اسکیبیز، یعنی باریک کیڑے سے پھیلنے والی متعدی خارش، کے علاج میں لگایا جاتا ہے۔ صرف نام دیکھ کر اسے بچوں کی ہر خارش، الرجی یا دانوں کی کریم نہ سمجھیں۔

اس مخصوص برانڈ کا مصدقہ مقامی لیبل یہاں دستیاب نہیں، اس لیے نیچے پرمیتھرین والی کریم کی رہنمائی دی گئی ہے؛ مختلف جز ہو تو ہدایات بھی بدلیں گی۔ یہ تعلیمی رہنمائی کسی کمپنی کی مصنوعات کو بہترین قرار نہیں دیتی۔ فارماسسٹ سے مناسب جینرک متبادل پوچھ سکتے ہیں۔

فوری معلومات

معلومات تفصیل
عمومی نام پرمیتھرین؛ پیڈز کے پیک سے تصدیق ضروری
برانڈ اور متبادل زیر بحث نام پیڈز؛ متبادل کا انتخاب جینرک جز کے مطابق
دوائی کی قسم جلد کے طفیلی کیڑوں کو ختم کرنے والی دوا
بنیادی استعمال تصدیق شدہ پرمیتھرین 5% کریم کے لیے اسکیبیز
دستیاب شکل اس رہنمائی کا تعلق جلد پر لگانے والی کریم سے
طاقت 5% کی تصدیق کریں؛ دوسری طاقت خود سے مت بدلیں
استعمال کا راستہ صرف بیرونی جلد پر
نسخے کی حیثیت مقامی فارماسسٹ سے معلوم کریں
عام ضمنی اثرات جلن، چبھن، سرخی یا وقتی خارش

تعارف: پہلے ٹیوب کی پہچان کریں

دکان پر نام کے ساتھ جز اور طاقت بھی پڑھوائیں۔ ملتے جلتے نام یا مختلف ملکوں کی مصنوعات ایک جیسی ترکیب کی ضمانت نہیں؛ صرف تصویر دکھا کر دوا لینا بھی غلط ٹیوب ملنے کا سبب بن سکتا ہے۔

پیک پر بنانے والی کمپنی، میعاد اور سیل دیکھیں۔ تحریر مٹی ہوئی ہو، کریم بے نام ڈبی میں ملے یا جز سمجھ نہ آئے تو پہلے وضاحت لیں۔ نام میں بچوں جیسا تاثر ہونے سے دوا ہر عمر کے لیے محفوظ نہیں ہوجاتی۔

دوا کیسے کام کرتی ہے؟

پرمیتھرین خارش پیدا کرنے والے کیڑے کے اعصابی نظام پر اثر ڈال کر اسے ختم کرتی ہے۔ سٹیرائڈ کی طرح صرف سوزش دبانا اس کا بنیادی کام نہیں، اور داد پیدا کرنے والی پھپھوندی کا علاج بھی اس سے نہیں ہوتا۔

خارش فوراً ختم ہونا ضروری نہیں۔ کیڑا مرنے کے بعد بھی جلد اس کی باقیات کے خلاف ردعمل دکھا سکتی ہے، اس لیے اگلے دن کھجلی باقی رہنے کو لازماً ناکام علاج سمجھنا غلط ہوگا۔

کن صورتوں میں استعمال ہوتا ہے؟

متعدی خارش کا علاج

رات کو بڑھتی کھجلی، انگلیوں کے درمیان دانے، کلائی یا کمر کے گرد خارش، اور گھر کے دوسرے فرد میں ایسی علامات اسکیبیز کا شبہ بڑھاتی ہیں۔ مگر صرف خارش تشخیص نہیں۔ ایگزیما، داد اور دوسری جلدی بیماریاں بھی ملتی جلتی لگ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر معائنے کے بعد پرمیتھرین تجویز کرسکتا ہے۔ موٹی پپڑیوں والی شدید اسکیبیز، خصوصاً کمزور مدافعت والے شخص میں، الگ علاج اور زیادہ احتیاط مانگتی ہے؛ صرف کریم خریدنا کافی نہیں۔

جوؤں اور عام دانوں سے فرق

سر کی جوؤں کے لیے پرمیتھرین کی الگ طاقت یا شکل استعمال ہوسکتی ہے۔ جسم کی خارش والی کریم خود سے سر پر نہ لگائیں۔ گرمی دانے، مہاسے اور ڈائپر کی سرخی بھی اس کے خودکار استعمال کی وجہ نہیں۔

مقدار اور لگانے کا درست طریقہ

درست مقدار، تکرار اور مدت عمر، بیماری، دوا کی شکل، جسم کے رقبے اور طبی تاریخ کے مطابق طے ہوتی ہے؛ ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے تصدیق کریں۔ ٹیوب کتنے افراد کے لیے کافی ہوگی، اس کا فیصلہ صرف وزن دیکھ کر نہیں کیا جاسکتا۔

لگانے سے پہلے تیاری

جلد صاف، خشک اور ٹھنڈی رکھیں۔ گرم غسل کے فوراً بعد لگانے سے گریز کریں؛ ناخن مختصر کریں، ان کے کنارے صاف رکھیں اور کپڑے پہلے نکال لیں تاکہ کریم لگنے کے بعد غیرضروری دھلائی نہ کرنی پڑے۔

بالغوں کی عام اسکیبیز میں صرف دانوں پر نقطے لگانا کافی نہیں؛ تجویز کے مطابق گردن سے نیچے مطلوبہ پوری جلد پر باریک تہہ لگتی ہے۔ انگلیوں کے درمیان، ناخنوں کے کنارے، بغلیں، ناف، کولہوں کی دراڑ، رانوں کے جوڑ اور پاؤں کے تلوے اکثر رہ جاتے ہیں۔

آنکھ، منہ اور اندرونی نازک حصوں سے بچائیں۔ کمر تک ہاتھ نہ پہنچے تو مدد لیں۔ شیرخوار، چھوٹے بچے، بعض بزرگ اور مخصوص مریضوں میں سر یا گردن بھی علاج میں شامل ہوسکتے ہیں، مگر اس کا فیصلہ الگ کروائیں۔

کتنی دیر لگی رہتی ہے؟

مستند اسکیبیز رہنمائی میں پرمیتھرین 5% کو عموماً آٹھ سے چودہ گھنٹے بعد دھونے کا ذکر ہے؛ اپنے پیک اور معالج کی ہدایت کو ترجیح دیں۔ زیادہ دیر چھوڑنا بہتر علاج کی ضمانت نہیں۔ مقررہ وقت گزرنے پر دھو کر صاف کپڑے پہنیں۔

درمیان میں ہاتھ دھل جائیں تو؟ علاج کی مقررہ مدت کے دوران دھلے ہوئے ہاتھوں پر دوبارہ لگانے کی ضرورت پڑسکتی ہے؛ یہی بات دوسرے دھلے حصوں پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔ پوری رات کا عمل ازخود دوبارہ شروع نہ کریں۔

کھانے سے اس کا تعلق نہیں۔ کریم نگلنی یا کسی تیل میں ملا کر پتلی نہیں کرنی۔ عام اسکیبیز میں روزانہ بار بار لگانا معمول کا طریقہ نہیں؛ بعض منصوبوں میں تقریباً ایک ہفتے بعد تکرار ہوتی ہے، جس کی تصدیق ضروری ہے۔

گھر والوں اور کپڑوں کا خیال کیسے رکھیں؟

صرف ایک شخص کا علاج ادھورا پڑسکتا ہے۔ گھر کے افراد، شریکِ حیات اور قریبی جلدی رابطے والے لوگوں کو علامات نہ ہونے کے باوجود ایک ہی وقت میں علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ ہر شخص کے لیے عمر اور حالت کے مطابق منصوبہ بنوائیں۔

علاج سے پہلے کے تین دن میں استعمال ہونے والے کپڑے، تولیے اور بستر گرم پانی میں دھو کر مناسب گرم طریقے سے خشک کریں۔ جو چیز دھل نہ سکے، اسے بند تھیلی میں کم از کم بہتر گھنٹے، اور ضرورت کے مطابق ایک ہفتہ الگ رکھنے کی رہنمائی دی جاتی ہے۔ صرف دھوپ پر انحصار نہ کریں۔

ایک چھوٹی فہرست بنا لیں: کس نے کب لگایا، کب دھویا اور اگلی باری کب ہے۔ مشترکہ گھر میں یہی لکھا ہوا منصوبہ بھولی ہوئی باری پکڑ لیتا ہے۔ جلدی رابطہ کب بحال کرنا مناسب ہوگا، معالج سے پوچھیں؛ گدے پر زرعی کیڑے مار دوا نہ چھڑکیں۔

ضمنی اثرات اور خطرے کی علامات

ہلکی چبھن، جلن، سرخی یا وقتی خارش ہوسکتی ہے، خصوصاً پہلے سے کھجائی ہوئی جلد پر۔ علامات شدید ہوں یا بڑھتی جائیں تو انہیں معمول سمجھ کر مزید تہیں نہ لگاتے رہیں۔ باقی خارش اور نئی دوا کی الرجی ایک بات نہیں۔

  • سانس میں رکاوٹ، ہونٹ یا چہرہ سوجنا، یا بے ہوشی کی کیفیت ہو تو فوراً ہنگامی مدد لیں۔
  • شدید جلن، چھالے یا تیزی سے پھیلتی سرخی ہو تو کریم دھو کر فوری طبی مشورہ لیں۔
  • پیپ، بڑھتا درد، گرم سوجن یا بخار جلد کے ثانوی انفیکشن کی علامت ہوسکتے ہیں؛ معائنہ کروائیں۔

آنکھ میں چلی جائے تو صاف بہتے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ درد یا دھندلا نظر آنا برقرار رہے تو انتظار نہ کریں۔

انتباہات اور خاص مریضوں کی احتیاطیں

حمل اور دودھ پلانا

حمل میں ضرورت پڑنے پر پرمیتھرین کو عموماً ترجیحی علاجوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن پہلے جز اور تشخیص کی تصدیق ضروری ہے۔ دودھ پلانے والی ماں چھاتی یا نپل پر خود سے نہ لگائے؛ وہاں علاج درکار ہو تو بچے کے منہ اور جلد کو دوا سے بچانے کا واضح طریقہ پوچھے۔

بچے اور بزرگ

دو ماہ سے کم عمر بچے پر خود سے استعمال نہ کریں۔ بڑی عمر کے بچوں میں بھی لگانے کی جگہ اور مقدار الگ ہوسکتی ہے؛ بچے کے ہاتھ چاٹنے اور آنکھ ملنے کا خیال رکھیں۔ بزرگوں کو کمر اور تلووں تک لگانے میں عملی مدد درکار ہوسکتی ہے۔

دوسری بیماریاں

گردے، جگر یا دل کی بیماری سے مقدار خود بخود بڑھانے یا گھٹانے کا اصول نہیں نکلتا۔ شدید ایگزیما، کھلی زخمی جلد، کمزور مدافعت یا بہت وسیع متاثرہ رقبہ ہو تو ڈاکٹر کو بتائیں، کیونکہ جذب، جلن اور علاج کی ضرورت بدل سکتی ہے۔

دوسری دواؤں کے ساتھ استعمال

اپنی جلد پر لگنے والی تمام چیزوں کا نام بتائیں، خصوصاً سٹیرائڈ، دوسری کیڑے مار دوا اور خارش کی مخلوط کریم۔ انہیں ایک ہی وقت پر تہہ در تہہ لگانے سے جلن بڑھ سکتی ہے، جبکہ سٹیرائڈ علامات چھپا کر تشخیص مشکل بنا سکتا ہے۔

کھانے یا وٹامن سے مخصوص پابندی عموماً درکار نہیں۔ تاہم خارش کے لیے ساتھ لی جانے والی بعض گولیاں غنودگی دیتی ہیں؛ گاڑی چلانے اور الکحل کے متعلق احتیاط ان کی وجہ سے الگ ہوگی۔

کن لوگوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے؟

پرمیتھرین یا کریم کے کسی جز سے پہلے شدید الرجی ہوئی ہو تو دوبارہ لگانے سے پہلے ڈاکٹر سے بات کریں۔ بعض لیبل متعلقہ پائریتھرین ادویات کی حساسیت پر بھی تنبیہ کرتے ہیں؛ سابقہ ردعمل کا نام بتائیں۔

بغیر شناخت کی کریم استعمال نہ کریں۔ آنکھ کی بیماری، منہ کے اندر زخم، عام ڈائپر ریش یا غیرتشخیص شدہ دانوں کے لیے اسے خود سے منتخب کرنا بھی مناسب نہیں۔

زیادہ لگ جائے یا نگل لی جائے تو؟

موٹی تہہ یا بار بار استعمال جلن بڑھا سکتا ہے؛ زیادہ مقدار لازماً زیادہ کیڑے نہیں مارتی۔ اضافی کریم لگی ہو اور شدید تکلیف ہو تو دھو کر مشورہ لیں۔

نگلنے کی صورت میں فوراً قریبی ہنگامی شعبے یا زہر سے متعلق طبی خدمت سے رابطہ کریں۔ قے نہ کروائیں، کوئی گھریلو محلول نہ پلائیں اور ٹیوب ساتھ لے جائیں۔ بچے میں علامات کا انتظار نہ کریں۔

مقررہ باری رہ جائے تو کیا کریں؟

دوگنی تہہ نہ لگائیں۔ اگر دوبارہ علاج کی مقررہ تاریخ گزر گئی ہو تو فارماسسٹ یا ڈاکٹر سے نئی تاریخ طے کریں، خصوصاً جب گھر کے باقی افراد اپنی باری پوری کرچکے ہوں۔

کریم وقت سے پہلے دھل گئی ہو تو مزید پوری ٹیوب لگانے کے بجائے بتائیں کہ کتنی دیر لگی رہی تھی اور کون سے حصے دھلے تھے۔ اسی سے اگلا قدم طے ہوگا۔

علاج کے بعد خارش کب تک رہ سکتی ہے؟

کامیاب علاج کے باوجود کھجلی چند ہفتے باقی رہ سکتی ہے۔ روزانہ نئی کریم لگانے سے جلد مزید خراب ہوسکتی ہے، اس لیے صرف کھجلی نہیں بلکہ نئے دانوں، باریک نئی سرنگوں اور گھر میں نئے مریضوں کو بھی دیکھیں۔

دو سے چار ہفتے بعد بھی خارش برقرار ہو، نئے دانے نکلیں یا پہلے ہی حالت بگڑنے لگے تو دوبارہ معائنہ کروائیں۔ ممکنہ وجوہ میں چھوٹے ہوئے حصے، بہت جلد دھونا، قریبی فرد کا علاج نہ ہونا یا اصل تشخیص مختلف ہونا شامل ہیں۔ عام مختصر علاج کو بتدریج کم کرنا عموماً ضروری نہیں؛ مقررہ تکرار البتہ نہ چھوڑیں۔

ذخیرہ اور میعاد کی احتیاط

ٹیوب بند، اصل پیک میں اور بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ درجہ حرارت کے لیے لیبل دیکھیں؛ پاکستان کی گرمی میں گاڑی، کھڑکی یا چولہے کے پاس چھوڑنا مناسب نہیں۔ غسل خانے کی مسلسل نمی سے بھی بچائیں۔

فریج میں رکھنا خود سے ضروری نہ سمجھیں۔ رنگ، بو یا ساخت نمایاں بدل جائے، سیل خراب ہو یا میعاد گزر چکی ہو تو فارماسسٹ کو دکھائیں۔

مختلف شکلیں، طاقتیں اور متبادل

پرمیتھرین کی سر کی جوؤں والی 1% شکل اور اسکیبیز کی 5% کریم کو ایک دوسرے کی جگہ خود سے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ لگانے کی جگہ، مدت اور مقصد بدل سکتے ہیں؛ اسی طرح لوشن اور کریم کے لیے ایک جیسی ہدایت فرض نہ کریں۔

پیڈز کے نام سے دوسری شکلوں یا طاقتوں کی یہاں تصدیق نہیں۔ اصل پیک فیصلہ کرے گا۔

متبادل برانڈ کیسے منتخب کریں؟

موازنہ جز، طاقت، شکل، میعاد اور معتبر فراہمی کا کریں، صرف قیمت کا نہیں۔ ایک ہی جز ہونے کے باوجود کریم کے دوسرے اجزا کسی شخص میں جلن پیدا کرسکتے ہیں۔ مہنگی ٹیوب لازماً بہتر نہیں، اور سستی متبادل دوا لازماً کم مؤثر نہیں؛ تبدیلی فارماسسٹ سے کروائیں۔

عام غلط فہمیاں

  • صرف دانوں پر لگانا کافی ہے: اسکیبیز میں تجویز کردہ پوری جلد کا علاج درکار ہوسکتا ہے۔
  • اگلے دن خارش ہو تو دوا ناکام ہے: جلد کا ردعمل کیڑا ختم ہونے کے بعد بھی رہ سکتا ہے۔
  • گھر میں جسے خارش نہیں، اسے کچھ نہیں کرنا: قریبی رابطے والوں میں علامات دیر سے ظاہر ہوسکتی ہیں۔
  • زیادہ تہہ جلد فائدہ دے گی: اضافی جلن ہوسکتی ہے، فائدے کی ضمانت نہیں۔
  • اسکیبیز صرف گندگی سے ہوتی ہے: صاف ستھرے افراد کو بھی قریبی رابطے سے لگ سکتی ہے؛ شرمندہ کرنے کے بجائے مشترکہ علاج ضروری ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا پیڈز کریم داد کے لیے لگاسکتے ہیں؟

اگر جز پرمیتھرین ہو تو داد کی پھپھوندی کا علاج نہیں ہوگا۔ گول پھیلتے دھبے ہوں تو تشخیص کروائیں؛ خود سے سٹیرائڈ والی کریم ملا کر نہ لگائیں۔

کیا صرف رات کو لگانا ضروری ہے؟

رات کو مقررہ مدت پوری کرنا آسان رہتا ہے، مگر اصل بات جلد پر مطلوبہ وقت تک رہنا ہے۔ اپنے پیک اور معالج کا بتایا وقت اپنائیں، صرف سونے سے پہلے لگانا کافی نہیں۔

کیا خارش ختم ہوتے ہی دھو سکتے ہیں؟

نہیں، فوری سکون علاج مکمل ہونے کا پیمانہ نہیں۔ مقررہ مدت سے پہلے دھونے سے اثر کم ہوسکتا ہے؛ شدید جلن یا الرجی ہو تو الگ حفاظتی قدم ضروری ہے۔

کیا بچے کے چہرے پر لگا سکتے ہیں؟

خود سے نہیں۔ بعض چھوٹے بچوں میں سر یا چہرے کے مخصوص حصوں کا علاج درکار ہوسکتا ہے، مگر آنکھ اور منہ سے بچانے کے لیے ڈاکٹر کی واضح ہدایت لیں۔

کیا حاملہ خاتون گھر والوں کے ساتھ علاج کرسکتی ہے؟

اکثر مناسب علاج ممکن ہوتا ہے، لیکن حمل بتا کر تصدیق کروائیں۔ صرف خوف کی وجہ سے ایک قریبی فرد کا علاج چھوڑ دینا دوبارہ منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔

کیا اس سے نیند یا عادت پڑتی ہے؟

پرمیتھرین کریم سے عام طور پر نیند یا نشے کی عادت متوقع نہیں۔ ساتھ کھائی جانے والی خارش کی بعض گولیاں غنودگی لاسکتی ہیں؛ دونوں دواؤں کو الگ سمجھیں۔

کیا تولیے اور بستر بانٹ سکتے ہیں؟

علاج کے دوران مشترکہ استعمال سے گریز کریں اور صاف چیزیں الگ رکھیں۔ متعدی خارش میں کپڑوں کی صفائی، قریبی رابطوں کی رہنمائی اور درست علاج ایک ساتھ چلتے ہیں۔

علاج کے بعد دوبارہ خارش ہو تو برانڈ بدل لیں؟

فوراً نہیں۔ پہلے باقی جلدی ردعمل، غلط طریقہ استعمال اور دوبارہ منتقلی میں فرق کریں۔ بار بار نام بدلنے کے باوجود اصل مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے؛ پچھلی ٹیوب معائنے پر ساتھ لے جائیں۔

حوالہ جات

  • امریکی مراکز برائے انسداد و تدارکِ امراض: اسکیبیز کا طبی علاج؛ پرمیتھرین کا استعمال اور عمر کی احتیاطیں۔
  • امریکی مراکز برائے انسداد و تدارکِ امراض: اسکیبیز سے بچاؤ؛ گھر والوں، کپڑوں اور بستر کی رہنمائی۔
  • برطانوی قومی صحت خدمت: اسکیبیز؛ علاج اور علاج کے بعد باقی خارش۔

ان عمومی رہنمائیوں سے پیڈز کے مخصوص مقامی پیک کی ترکیب ثابت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے اصل لیبل درکار ہے۔

اہم طبی انتباہ

یہ مضمون صرف عمومی تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور کسی مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے پیشہ ورانہ مشورے کا متبادل نہیں۔ کسی بھی دوا کے استعمال، خوراک، یا علاج سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔


Related reading

If this article on پیڈز کریم: استعمال، درست طریقہ اور خارش کی احتیاطیں was helpful, explore these related guides for more practical information on similar topics.

Keep reading

Related articles